دراز[2]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - نیچے پہننے کا تنگ پاجامہ۔ (جامع اللغات) ١ - طویل، لمبا (مدت گفتگو یا کوئی مادی شے وغیرہ کے لیے)  زخاک تابہ ثریا ہے اک سکوت دراز خلا میں آج بھی گم ہے زمین کی آواز      ( ١٩٥٧ء، نبضِ دوراں، ٢٥٤ ) ٢ - طویل المسافت، دور (دور کے تابع کے طور پر مستعمل)۔ "تمام قبائل دور و دراز مقامات سے آتے تھے۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ١١:٢ ) ٤ - زیادہ، تفصیلی (مختصر کی ضد)۔  کیا گنج خفی کا راز بولوں کیا مختصر و دراز بولوں      ( ١٨٧٤ء، جامع المظاہر، ٧٧ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ ہے۔ اردو میں بطور صفت نیز اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٥٦٤ء سے "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - طویل المسافت، دور (دور کے تابع کے طور پر مستعمل)۔ "تمام قبائل دور و دراز مقامات سے آتے تھے۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ١١:٢ )

جنس: مؤنث